تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔
ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔
’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو
”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں۔