عن عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- مرفوعاً: "الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، وما منا إلا، ولكنَّ الله يُذْهِبُهُ بالتوكل". (وما منا إلا، ولكنَّ الله يُذْهِبُهُ بالتوكل) من قول ابن مسعود وليس مرفوعًا.
[صحيح.] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” بدشگونی لینا شرک ہے۔ بد شگونی لینا شرک ہے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے، لیکن اللہ تعالی اسے توکل سے دور فرمادیتا ہے“۔ ” اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے، لیکن اللہ تعالی اسے توکل سے دور فرمادیتا ہے“ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے نہیں بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہیں۔
[صحیح] - [اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]

شرح

رسول اللہ ﷺ خبر دے رہے ہیں اور اسے مکرر کہ رہے ہیں تاکہ اس کا مفہوم اچھی طرح دلوں میں بیٹھ جائے کہ 'طیرۃ' جس سے مراد بدشگونی ہے جو انسان کو کسی کام سے روکتی ہے یا پھر اسے اس پر آمادہ کرتی ہے، شرک ہے کیونکہ اس میں دل غیر اللہ کے ساتھ لگتا ہے اور اللہ سے بد گمانی پیدا ہوتی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کے دل میں بدشگونی پیدا ہوتی ہے تاہم اللہ تعالی اپنے اوپر توکل اور اعتماد کی وجہ سے اس بدشگونی کو زائل کر دیتا ہے۔ اور یہ( بیان)۔ واللہ اعلم۔ تواضع اور مبالغہ کے طور پر ہے اور ساتھ ہی ساتھ بدشگونی ہونے پر اس کےعلاج کا (بھی) ذکر ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں