عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«يقالُ لصاحبِ القرآن: اقرَأ وارتَقِ، ورتِّل كما كُنْتَ ترتِّل في الدُنيا، فإن منزِلَكَ عندَ آخرِ آية تقرؤها».

[حسن] - [رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد] - [سنن أبي داود: 1464]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔

[حَسَنْ] - [اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں اور احمد نے روایت کیا ہے] - [سننِ ابو داود - 1464]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. اعمال پر ان کى کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے بدلہ ملے گا۔
  2. قرآن کی تلاوت، اسے یاد کرنے، اس پر غور وفکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب۔
  3. جنت کے بہت سے منازل اور درجات ہیں۔ صاحب قرآن کو جنت کی سب سے بلند منزل ملے گی۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (65)