”اس قرآن کی حفاظت (دیکھ بھال) کرو اور اس كى برابر تلاوت كيا كرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل جانے میں اس اونٹ سے زیادہ تیز ہے جو رسی میں بندھا ہوا ہو“۔
”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے
اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے
اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، سنگترے جیسی ہے، جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہ پڑھتا ہو، کھجور جیسی ہے، جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی، لیکن مٹھاس ہوتی ہے
جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔
کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’قل أعوذ بربّ الفلق‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔
تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جاؤ۔
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے
تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ: {ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے
نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔
صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے
اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔
اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾
’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو
انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا
آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)
{ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی
حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب رکھا اور منی کو دائیں جانب۔ پھر فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ: قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے
اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کوئی شے چھوڑ کر گئے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی بات مجھے یاد ہو جاتی ہے تو یہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں اس کی بات یاد کر لیتا ہوں۔
جب اللہ کے نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی، تو اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔
ایک آدمی کے لیے نہایت بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ تم پابندی کے ساتھ قرآن کى تلاوت اور اس کا پیہم مذاکرہ کیا کرو، کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جانے کے معاملے میں اونٹوں کی رفتار سے بھی کہیں تیز ہے۔
جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔
قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگی), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا
علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے قرآن کی اس سمجھ بوجھ کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا
ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ}
”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے“ [التوبۃ: 19] آیت کے آخر تک۔
اللہ عزّ و جلّ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ پر پہ در پہ وحی نازل فرماتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات اس وقت ہوئی جب کثرت کے ساتھ وحی نازل ہو رہی تھی۔
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ- اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- کہتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے، حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کی قرأت کے اختلاف سے گھبرا گئے۔
مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتےتھے کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں،، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ ہے۔
جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔