عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ:
قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41]، قَالَ: «حَسْبُكَ الآنَ» فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 5050]
المزيــد ...
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ»، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا میں آپ کو سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ چنانچہ میں نے سورہ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا: (کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواه لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بنا کر لائیں گے) [النساء: 41]، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اب بس کرو‘‘۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 5050]
نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں قرآن میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو کیسے پڑھ کر سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں“۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی کچھ آیتیں تلاوت کی، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر پہنچے: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}۔ یعنی آپ کا اور آپ کی امت کا کیا حال ہوگا جب ہم آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر لائیں گے کہ آپ نے ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو اس موقف کی ہیبت اور اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔