عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «ليس الواصل بالمُكَافِئِ ، ولكنَّ الواصل الذي إذا قَطعت رحِمه وصَلَها».
[صحيح.] - [رواه البخاري.]
المزيــد ...

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے“۔
صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

آپ ﷺ کے فرمان ”لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ“ کا مطلب یہ ہے کہ صلہ رحمی اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنے میں وہ شخص کامل نہیں، جو احسان کے مقابلے میں احسان کرتا ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے میں کامل درحقیقت وہ شخص ہے، جو قطع رحمی کے باوجود صلہ رحمی کرے۔ یہاں تک کہ اگر لوگ اس کے ساتھ بُرائی کریں، اور وہ برائی کے بدلے میںان کے ساتھ بھلائی کرے، تو یہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا ہوگا۔ لہٰذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں وغیرہ کی تکلیف پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے۔ ایسے انسان کے لیے دوسروں کے خلاف اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مدد گار ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ فائدے میں رہتا ہے اور اس کے معاندین خسارے میں ہوتے ہیں۔ صلہ رحمی مال کے ذریعے بھی ہوتی ہے، ضروریات میں مدد سے بھی ہوتی ہے، نقصان کو دور کرنے، خندہ پیشانی سے ملنے اور ان کے لیے دعاے خیر سے ہوتی ہے۔ اس کا جامع معنیٰ یہ ہے کہ جس طرح سے ممکن ہو، اپنی استطاعت کے مطابق بھلائی پہنچانا اور تکلیف دور کرنا۔ اسلام نے صلہ رحمی کی بڑی تاکید کی ہے۔ تاہم مفاسد سے بچاؤ اور زجر و توبیخ کے طور پر قطع تعلق، قطع رحمی میں شمار نہیں ہوتا۔ جیسے کسی کو یہ امید ہو کہ ترک صلہ رحمی کے توسط سے اس کا رشتے دار صحیح راستے پر آ سکتا ہے اور خلافِ شریعت کاموں سے بچ سکتا ہے۔ یا اسے اپنے یا اپنے اہلِ خانہ کے بارے میں یہ خوف ہو کہ جب وہ صلہ رحمی کرے گا، جب کہ اس کے رشتے دینی بے راہ روی کے شکار ہیں، تو ان کی یہ بیماری اس کی اور اس کے زیر دستوں کی طرف منتقل ہو جاۓ گی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی
ترجمہ دیکھیں