عن أنس رضي الله عنه قال: كَانَ غُلاَمٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرِضَ، فَأتَاهُ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأسِهِ، فَقَالَ لَه: «أسْلِمْ» فَنَظَرَ إِلَى أبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ؟، فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا القَاسِمِ، فَأسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُول: «الحَمْدُ للهِ الَّذِي أنْقَذَهُ منَ النَّارِ».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اسلام قبول کرلو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس ہی تھا۔ اس نے کہا: ابو القاسم کی اطاعت کرو۔ اس پر اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس پر آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لے آئے کہ: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اس کو جہنم سے نجات دے دی۔

صحیح اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

حدیث میں ہے کہ مدینہ کے یہودیوں میں سے ایک چھوٹا بچہ آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی جس پر وہ مسلمان ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اسے جہنم سے نجات دی“۔

تراجم کا مشاہدہ

14 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية