بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا
”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔
کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ پردہ نشیں عورت سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی چيز دیکھتے، جو ناپسند ہوتی، تو ہم اس ناپسندیدگی کو آپ کے چہرے کی رنگت سے پہچان لیتے تھے۔
نبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو چکے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: اگر مجھے اپنی امت (یا آپ ﷺ نے فرمایا) اگر مجھے لوگوں کے دشواری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو انھیں حکم دیتا کہ وہ اس گھڑی میں یہ نماز پڑھا کریں۔
میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور یہ شخص انہیں اس سے ہٹا رہا ہے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے
صحابہ کرام کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں
جو اللہ نے لے لی، وہ اسی کی تھی اور جو اس نے دی تھی، وہ بھی اسی کی تھی اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک وقت مقرر ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو
اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ کر رہے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔
نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔
ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دےدیا۔
ايسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چيز کا سوال کيا گيا ہو اور آپ ﷺ نے جواب ميں ’’نہيں‘‘ فرمايا ہو.
رسول اللہ ﷺ کبھی کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے لمبا کرنے کا ہوتا ہے کہ میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز میں اختصار سے کام لیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں
میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔
اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملتی۔
اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔
(آپ ﷺ کے تواضع کا یہ حال تھا کہ) مدینے کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر (آپﷺ کو اپنے کسی کام کے لیے) جہاں چاہتی، لے جاتی۔
میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں ان سب کو تم میں تقسیم کردیتا، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ ہی جھوٹا اور بزدل پاؤگے۔
اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو، اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔
یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دعا کی۔ عزرہ کہتے ہیں: پھر ابو زید ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اس کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے
ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔
آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے
رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔
جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔
اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔
انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔
اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ
قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔
جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے، بشرط کہ وہ آسان کام گناہ نہ ہوتا۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔