صحابہ کرام کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں
(آپ ﷺ کے تواضع کا یہ حال تھا کہ) مدینے کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر (آپﷺ کو اپنے کسی کام کے لیے) جہاں چاہتی، لے جاتی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔