عَنْ أبي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:
«بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} [المدثر: 2] إِلَى قَوْلِهِ {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: 5]. فَحَمِيَ الوَحْيُ وَتَتَابَعَ».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 4]
المزيــد ...

ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے وحی کے توقف کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے اپنی حدیث میں فرمایا:
"میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے بہت ڈر گیا، چنانچہ میں واپس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} سے لے کر {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} تک۔ پھر کثرت سے اور مسلسل وحی آنے لگی۔

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 4]

شرح

نبی ﷺ نے اپنی بعثت کے ابتدائی زمانے میں وحی کے رک جانے اور اس کے نزول کے بند ہو جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں مکہ کی گلیوں میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نگاہ اٹھائی، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جبرئیل علیہ السلام جو میرے پاس غارِ حراء میں تشریف لائے تھے، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں، جس پر میں ان سے مرعوب اور خوف زدہ ہو گیا، چنانچہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور کہا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} یعنی اپنے کپڑوں میں لپٹنے والے، {قُمْ} دعوت کے لیے کھڑے ہو جائیے {فَأَنْذِرْ} اور ان کو خبردار کیجیے جو آپ کی رسالت پر ایمان نہیں لائے ہیں۔ {وَرَبَّكَ} اپنے معبود کی، {فَكَبِّرْ} حمد وعظمت بیان کریں۔ {وَثِيَابَكَ} اپنے لباس کو {فَطَهِّرْ} نجاستوں سے پاک صاف رکھیں، {وَالرُّجْزَ} بتوں اور مورتیوں کی عبادت کو {فَاهْجُرْ} چھوڑ دیں، اس کے بعد وحی میں تیزی آگئی اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. اللہ عز و جل کے فرمان {اقْرَأْ} کے نزول کے بعد نبی ﷺ پر وحی کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے منقطع ہو گیا۔
  2. آزمائشوں کے زائل ہو جانے کے بعد، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ان کا تذکرہ کرنے کا جواز۔
  3. {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} کے نزول کے بعد سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا فرمان {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} نازل ہوا۔
  4. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اپنے نبی ﷺ پر فضل کہ آپ ﷺ پر بغیر انقطاع کے وحی نازل فرماتا رہا، یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا کو چھوڑ گئے۔
  5. دعوت الی اللہ کو قائم کرنے، اعراض کرنے والوں کو ڈرانے اور اطاعت گزاروں کو بشارت دینے کا وجوب۔
  6. نماز کے لیے کپڑوں کو پاک صاف کرنا واجب ہے، اس پر اللہ تعالی کے فرمان {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} سے استدلال کیا گیا ہے۔
  7. فرشتوں پر اور ان اعمال وغیرہ پر جن کی اللہ نے انہیں قدرت دی ہے، ایمان لانا واجب ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (27)