عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ عَلَى المُشْرِكِينَ قَالَ:
«إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 2599]
المزيــد ...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 2599]

شرح

نبی ﷺ سے مشرکوں کے حق میں بد دعا کرنے کے لیے کہا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ میں لوگوں کو بد دعا دوں اور انہیں اللہ کی رحمت سے دھتکار کر خیر سے محروم کر دوں۔ مجھے اس مقصد کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ مجھے تو تمام لوگوں کے لیے بالعموم، اور مومنوں کے لیے بالخصوص، خیر ورحمت کا سبب بنا کر بھیجا گیا ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق۔
  2. نبی ﷺ کی اقتدا میں زبان کو گالی گلوچ اور لعن طعن سے پاک رکھنے کی اہمیت۔
  3. لعنت کرنے کی ممانعت۔
  4. لوگوں پر رحم کرنے کی ترغیب۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (27)
مزید ۔ ۔ ۔