عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا، وَقَالَ: كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ.

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 670]
المزيــد ...

جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔، آپ ﷺ اپنی نماز کی اس جگہ سے جہاں آپ صبح کی نماز پڑھتے تھے، اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا، چنانچہ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ صحابہ کرام باتیں کرتے اور دورِ جاہلیت کے امور کا تذکرہ شروع کر دیتے، تو وہ ہنستے اور آپ ﷺ تبسم فرماتے۔

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 670]

شرح

نبی ﷺ کی سنت میں سے ہے کہ جب آپ فجر کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا، اور آپ ﷺ اپنی فجر کی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ پھر جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ اٹھ جاتے، صحابہ کرام -رضی اللہ عنہم- اسلام سے پہلے کے اپنے بعض معاملات کا تذکرہ کرنے لگتے اور آپ ﷺ خاموش رہتے، تو وہ ہنستے اور بسا اوقات آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تبسم فرما لیتے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک ذکر کرنا، اور بغیر کسی عذر کے اپنی نشست کو لازم پکڑنا مستحب ہے۔
  2. یہ نبی ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور نرم مزاجی کا بیان ہے کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، ان کی گفتگو اور قصے سنتے اور ان پر تبسم فرماتے تھے۔
  3. مسجد میں گفتگو کرنا اور ایامِ جاہلیت کا ذکر کرنا جائز ہے۔
  4. ہنسی اور تبسم کی اجازت؛ کیونکہ ممانعت زیادہ ہنسنے کی آئی ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (28)
مزید ۔ ۔ ۔