عَنْ إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ هَمَّامِ بنِ الحَارِثِ قَالَ:
بَالَ جَرِيرٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ: تَفْعَلُ هَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. قَالَ الأَعْمَشُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الحَدِيثُ؛ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ، كَانَ بَعْدَ نُزُولِ المَائِدَةِ.

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 272]
المزيــد ...

ابراہیم نخعی، ہَمَّام بن حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:
جَرِیر نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ اعمش کہتے ہیں کہ ابراہیم نے کہا: یہ حدیث انہیں بہت پسند تھی؛ کیونکہ جریر نے سورہ مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم - 272]

شرح

جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے پاؤں دھونے کے بجائے اپنے دونوں موزوں پر مسح کر لیا۔ تو ان کے پاس موجود لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں؟! انہوں نے کہا: ہاں، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ جریر رضی اللہ عنہ سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد دیر سے اسلام قبول کیے تھے، جس میں وضو کی آیت ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ موزوں پر مسح کا حکم اس آیت سے منسوخ نہیں ہوا۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. صحابہ وتابعین نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کے حریص تھے۔
  2. امام نووی کہتے ہیں: معتبر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ سفر وحضر، دونوں حالتوں میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، خواہ اس کی کوئی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ یہاں تک کہ گھر میں رہنے والی عورت اور چلنے پھرنے سے معذور شخص کے لیے بھی یہ جائز ہے۔
  3. جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت یہ ہے کہ وہ بڑے وسیع القلب تھے، اپنے شاگردوں کی نکیر برداشت کرتے تھے، خواہ وہ اس معاملے میں غلطی پر ہی کیوں نہ ہوں۔
  4. موزوں پر مسح کے منکر اور اس کی منسوخی کا دعوی کرنے والے کی تردید؛ کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث آیت وضوء کے بعد کی ہے۔
  5. اس بات کا بیان کہ جس شخص کی کسی بات پر نکیر کی جائے اور وہ اسے درست سمجھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکیر کرنے والے پر غصہ نہ ہو اور اپنے گمان کے مطابق اس سے بحث نہ کرے، بلکہ احسن طریقے سے اس کے سامنے اپنی دلیل واضح کر دے۔
  6. ضرورت پڑنے پر تاریخ سے استدلال۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (28)
مزید ۔ ۔ ۔