1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا

عَنْ إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ هَمَّامِ بنِ الحَارِثِ قَالَ:
بَالَ جَرِيرٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ: تَفْعَلُ هَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. قَالَ الأَعْمَشُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الحَدِيثُ؛ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ، كَانَ بَعْدَ نُزُولِ المَائِدَةِ.

ابراہیم نخعی، ہَمَّام بن حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:
جَرِیر نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ اعمش کہتے ہیں کہ ابراہیم نے کہا: یہ حدیث انہیں بہت پسند تھی؛ کیونکہ جریر نے سورہ مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 272

شرح

جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے پاؤں دھونے کے بجائے اپنے دونوں موزوں پر مسح کر لیا۔ تو ان کے پاس موجود لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں؟! انہوں نے کہا: ہاں، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ جریر رضی اللہ عنہ سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد دیر سے اسلام قبول کیے تھے، جس میں وضو کی آیت ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ موزوں پر مسح کا حکم اس آیت سے منسوخ نہیں ہوا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. صحابہ وتابعین نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کے حریص تھے۔
  2. امام نووی کہتے ہیں: معتبر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ سفر وحضر، دونوں حالتوں میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، خواہ اس کی کوئی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ یہاں تک کہ گھر میں رہنے والی عورت اور چلنے پھرنے سے معذور شخص کے لیے بھی یہ جائز ہے۔
  3. جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت یہ ہے کہ وہ بڑے وسیع القلب تھے، اپنے شاگردوں کی نکیر برداشت کرتے تھے، خواہ وہ اس معاملے میں غلطی پر ہی کیوں نہ ہوں۔
  4. موزوں پر مسح کے منکر اور اس کی منسوخی کا دعوی کرنے والے کی تردید؛ کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث آیت وضوء کے بعد کی ہے۔
  5. اس بات کا بیان کہ جس شخص کی کسی بات پر نکیر کی جائے اور وہ اسے درست سمجھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکیر کرنے والے پر غصہ نہ ہو اور اپنے گمان کے مطابق اس سے بحث نہ کرے، بلکہ احسن طریقے سے اس کے سامنے اپنی دلیل واضح کر دے۔
  6. ضرورت پڑنے پر تاریخ سے استدلال۔

تراجم کا مشاہدہ

29 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TH ไทย التايلندية
AS অসমীয়া الأسامية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
HU Magyar المجرية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية