حدیث کی فہرست 131

پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں
”پانچ چیزیں (انسانی) فطرت (کا حصہ) ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا“۔
”مونچھیں تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔
جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے
جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔
”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔
”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔
پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عموما قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے۔
پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں
ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔
انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے
یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔
جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔
تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔
جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے (کچھ) پی لے، تو اسے سات مرتبہ دھو لے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
غسل جنابت کا طریقہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے
میں ایک ایسا شخص تھا، جسے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سم کے داماد ہونے کے ناتے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو پوچھنے کا حکم دیا (اور انھوں نے پوچھا)، تو آپ نے کہا : "وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔
انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔
میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔
تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بس اتنا کر لینا کافی تھا"۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ، ہتھیلیوں کی پشت اور اپنے چہرے کا مسح کیا۔
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔
دس باتیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور پانی سےاستنجاء کرنا
’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔
ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے۔ رات کو جب اللہ تعالی چاہتا، آپ ﷺ کو بیدار کر دیتا اور آپ ﷺ مسواک اور وضو کرکے نماز پڑھتے۔
جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔
تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔
”جب پانی کی مقدار دو قلہ (دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر) ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دیتا۔“
”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا
ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔
نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی سے نہا لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتھے تھے۔
جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یک سوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے"۔
جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے۔
ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔
تم اتنے دن نماز سے رکی رہو، جتنے دن تمھارا حیض تمھیں نماز سے روکا کرتا تھا، پھر غسل کر لیا کرو
دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔
جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔
ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔
میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔
میں ایک دن حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر چڑھا، تو دیکھا کہ نبیﷺ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کرکے قضاے حاجت کر رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوگیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا، آپ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) تم مٹی استعمال کرتے وہ تمہارے لیے کافی تھی۔
میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔
میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔
جب کوئی مومن یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے، یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔
یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ پانی دیکھ لے۔
میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑوں سے منی کو دھو ڈالتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے؛ حالاںکہ پانی کے دھبے آپ ﷺ کے کپڑے پر موجود ہوتے۔
کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
جب ہم مسافر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ اتاریں الا یہ کہ جنابت لاحق ہو، لیکن پیشاب، پاخانے اور نیند سے نہیں
نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا، نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔
اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔
وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے دار ہو۔
میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لئے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی نے آلیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرلیا کریں۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔
اس نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں!
اے اللہ کے رسول! ميں ايسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے
سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں
میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا۔
ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے۔
مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔
نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے۔ اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔
کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔
اللہ کے رسول ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا
قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“ انھوں نے کہا: یہ مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے پانی اور قرظ پاک کر دیتا ہے۔
انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو (کسی سے) سوال کیوں نہ کیا؟ کیونکہ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس شخص کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا (یا پٹی) باندھ کر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔
اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی، صرف پانی سے ہے۔