1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث تم اتنے دن نماز سے رکی رہو، جتنے دن تمھارا حیض تمھیں نماز سے روکا کرتا تھا، پھر غسل کر لیا کرو

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضي الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ:
إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي». فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں:
عبد الرحمن بن عوف کى بیوى ام حبیبہ بنت جحش نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خون جاری رہنے کی شکایت کی، تو آپ نے ان سے فرمایا : "تم اتنے دن نماز سے رکی رہو، جتنے دن تمھارا حیض تمھیں نماز سے روکا کرتا تھا، پھر غسل کر لیا کرو"۔ لہذا وہ ہر نماز کے وقت غسل کیا کرتی تھیں۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 334

شرح

ایک صحابیہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور خون جاری رہنے کی شکایت کی، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ یہ پریشانی شروع ہونے سے پہلے جتنے دن اس کا حيض اسے نماز سے روکے رکھتا تھا، اتنے دن نماز سے رکی رہے اور اس کے بعد غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔ لہذا وہ نفلی طور پر ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرتی تھیں۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. استحاضہ : استحاضہ یہ ہے کہ عورت کو حیض کے معمول کے دنوں کے بعد بھی خون آتا رہے۔
  2. استحاضہ کی شکار عورت اتنے دنوں تک خود کو حائضہ سمجھے، جتنے دنوں تک یہ پریشانی لاحق ہونے سے پہلے اسے حیض آیا کرتا تھا۔
  3. پھر جب اس کی اصل عادت کے بہ قدر ایام گزر جائيں، تو خود کو حیض سے پاک سمجھے اور حیض سے پاکی کا غسل کر لے، چاہے استحاضہ کا خون جاری ہی کیوں نہ رہے۔
  4. استحاضہ کی شکار عورت پر ہر نماز کے لیے غسل واجب نہیں ہے۔ کیوں کہ مذکورہ صحابیہ ہر نماز کے لیے غسل اپنے اجتہاد سے کیا کرتی تھی۔ اگر یہ عمل واجب ہوتا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انہیں بتا دیتے۔
  5. استحاضہ والی عورت پر ہر نماز کے لیے وضو لازم ہے؛ اس لیے کہ اس کے وضو ٹوٹنے کا عمل لگاتار جاری ہے۔ یہی حکم ہر اس شخص کا ہے، جس کے وضو ٹوٹنے کا عمل لگاتار جاری رہے۔ جیسے وہ شخص جس کا پیشاب لگاتار نکلتا رہے اور وہ شخص جسے مسلسل ہوا نکلنے کی بیماری ہو۔
  6. دینی معاملات کے متعلق جب مشکلات درپیش ہوں، تو علماء سے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس عورت نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں حاضر ہو کر زیادہ خون آنے کی شکایت کی اور مسئلہ پوچھا۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية