1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث ’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 1142

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب انسان تہجد یا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہے، تو کس طرح شيطان اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک مومن شخص جب سو جاتا ہے، تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے۔
چنانچہ جب وہ جاگ کر اللہ کو یاد کرتا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو خلل ڈالنے نہيں دیتا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔
اس کے بعد اگر وضو کرتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔
پھر اگر اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ نتیجے کے طور انسان صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وه خوش مزاج اور چاق وچوبند رہتا ہے کیوں کہ طاعت کے لئے توفیق الہی ملنے کى وجہ سے وہ مسرور ہوتا ہے ساتھ ہی اللہ نے جو ثواب ومغرفت کا وعدہ کیا ہے اس سے اچھی امید رکھتا ہے اور اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس اگر وہ عبادت کے لیے کھڑا نہيں ہوا، تو اس کی صبح بدمزاجی، کبیدگی اور بھلائی و نیکی کے کاموں میں سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ دراصل وہ شیطانى زنجیر میں قید اور رحمن کی قربت سے دور کر دیا گیا ہوتا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جائے اور بندہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے اسی صورت میں بچ سکتا ہے، جب اللہ عز و جل کی مدد حاصل کرے اور وقایت و تحفظ کے راستوں کو اپنائے۔
  2. اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت انسان کے اندر چستی اور نشاط لاتی ہے، اسے قلبی مسرت عطا کرتی ہے، کاہلی اور سستی دور کرتی ہے اور بے چینی اور ناراضگی ختم کرتی ہے۔ کیوں کہ ذکر و عبادت شیطان کو دور بھگاتی ہے اور مذکورہ چيزیں شیطان کے وسوسے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔
  3. مومن اللہ تعالیٰ کی جانب سے عبادت کی توفیق ملنے پر خوش اور فضل و کمال کے درجات کے حصول میں پیچھے رہ جانے پر کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔
  4. غفلت اور نیکی کے کاموں سے دوری میں شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دراصل وہ ان چیزوں کو انسان کے سامنے خوش نما بناکر پیش کرتا ہے۔
  5. مذکورہ تینوں چیزیں -اللہ کا ذکر، وضو اور نماز- شیطان کو دور بھگانے کا کام کرتی ہیں۔
  6. شیطان کے ذریعے سر کے پچھلے حصے ہی میں گرہیں اس لیے لگائی جاتی ہیں کہ وہی ساری قوتوں کا سرچشمہ ہے اور وہیں سے پورے جسم کا نظام چلتا ہے۔ لہذا اس پر گرہیں لگا دینے کے بعد انسان کی روح پر قابض ہونا اور اس پر نیند طاری کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
  7. ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "عليك ليل" میں رات کا ذکر بظاہر یہ بتلاتا ہے کہ یہ بات رات کی نیند کے ساتھ خاص ہے۔
  8. ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: ذکر کے لیے کوئی چيز اس طرح مخصوص نہيں ہے کہ دوسری چيز کافی نہ ہو۔ ہر وہ چيز کافی ہے، جس پر "اللہ کا ذکر" کے الفاظ صادق آتے ہوں۔ اس کے دائرے مں قرآن کی تلاوت، حدیث نبوی پڑھنا اور علم شرعی میں مشغول رہنا بھی آتے ہيں۔ البتہ سب سے اچھا یہ ہے کہ اللہ کا ذکر اس حدیث نبوی میں وارد الفاظ کے ذریعے کیا جائے : "جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏، الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کی ہیں‘ اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قدرت۔) پھر کہے : اے اللہ! میری مغفرت فرما، یا کوئی دعا کرے، تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ وضو کرے (اور نماز پڑھے)، تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے)۔ صحیح بخاری۔

تراجم کا مشاہدہ

51 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية