عن أبي هريرة رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : "لاَ يَقْبَل الله صلاَة أَحَدِكُم إِذا أَحْدَث حَتَّى يَتوضَّأ".
[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایسے شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جسے حدث لاحق ہو گئی ہے یہاں تک کہ وہ وضو کرلے“۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

شارع حکیم علیہ الصلاۃ السلام نے راہ نمائی فرمائی کہ جو شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اچھی حالت اور خوب صورت ہیئت میں نماز کا آغاز کرے؛ کیونکہ نماز رب اور اس کے بندے کے مابین ایک مضبوط تعلق کا نام اور اللہ سے مناجات کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے نماز پڑھنے والے کو نماز کے لیے وضو اور حصولِ طہارت کا حکم دیا اور آگاہ کیا کہ بغیر طہارت کے نماز رد کر دی جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی جرمنی جاپانی
ترجمہ دیکھیں

فوائد

  1. نماز کی تعظیم کہ اللہ تعالیٰ اسے طہارت کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔
  2. حدث کے شکار شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی، جب تک حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاکی حاصل نہ کر لے۔
  3. حدث سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز کی حالت میں پائے جانے کی صورت میں نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
  4. یہاں عدم قبولیت سے مراد نماز کا صحیح اور کافی نہ ہونا ہے۔
  5. اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کبھی قبول ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ جب وہ شریعت کے مطابق ہوگی تو قبول ہوگی اور جب شریعت کے مطابق نہیں ہوگی تو رد کر دی جائے گی۔ یہی حال دیگر عبادتوں کا بھی ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔‘‘
  6. حدث لاحق ہونے والے کی نماز اس وقت تک حرام ہے، جب تک وضو نہ کر لے، کیوں کہ اللہ ایسی حالت میں پڑھی گئی نماز کو قبول نہیں فرماتا۔ جب کہ اس چیز کے ذریعے اللہ کا تقرّب حاصل کرنا، جسے وہ قبول نہیں فرماتا، دراصل اس کی مخالفت کرنا اور ایک طرح سے اس کا مذاق اڑانا ہے۔
  7. انسان جب کسی نماز کے لیے وضوکرے، پھر دوسری نماز کا وقت آجائے اور وہ طہارت کی حالت میں ہو، تو اس پر دوبارہ وضو واجب نہیں ہے۔
  8. نماز، فرض ہو کہ نفل، یہاں تک کہ جنازے کی نماز بھی، حدث کی حالت میں قبول نہيں ہوتی۔ چاہے بھول کر ہی کیوں نہ پڑی گئی ہو۔ نماز کے لیے وضو ضروری ہے۔ اسی طرح جنبی شخص اگر غسل کرنے سے پہلے نماز پڑھ لے، تو اس کی نماز بھی نہیں ہوگی۔ بھول کر پڑھنے والے کو نماز لوٹانی پڑے گی۔
مزید ۔ ۔ ۔