عن أبي بكرة نُفيع بن الحارث الثقفي -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه رَخَّصَ للمسَافر ثلاثةَ أيَّام ولَيَالِيهنَّ، وللمُقِيم يوما وليلة، إذا تطَهَّر فَلَبِسَ خُفَّيه: أَن يَمسَحَ عليهما.
[حسن.] - [رواه ابن ماجه والدارقطني.]
المزيــد ...

ابو بکرہ نفیع بن الحارث الثقفی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک اپنے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی بشرطیکہ کہ اس نے (حدثِ اکبر اور حدث اصغر سے) پاکیزگی کی حالت میں انہیں پہنا ہو۔
حَسَنْ - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین رات اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک اپنے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی یعنی موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی، اس میں دلیل ہے کہ مسافر کے لئے مسح کرنے کا وقت تین دن ہے اور مقیم کے لئے ایک دن ہے۔وقت کی اس حد بندی پر مشتمل دس سے زیادہ صحابہ سے مروی بہت سی احادیث آئی ہیں۔ آپ ﷺ نے مسافر کی مدت کو زیادہ رکھا کیوں کہ وہ مقیم شخص کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے کیوں کہ سفر میں مشقت ہوتی ہے۔ مسح کی مدت کا آغاز حدث کے لاحق ہونے کے بعد مسح کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ”اس نے پاکیزگی کی حالت میں انہیں پہنا ہو“ یعنی مسافر اور مقیم دونوں نے جب حدث اصغر سے پاکیزگی حاصل کر لی ہو۔ ’موزہ‘ چمڑے سے بنا ہوا ایک ایسا جوتا ہوتا ہے جو دونوں ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ جب کہ ’جراب‘ پاؤں پر ٹخنوں سے اوپر تک لپیٹا جانے والا ایک غلاف ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنا ہو مثلاً بال، اون، سوتی کپڑے یا موٹے یا باریک چمڑے وغیرہ سے۔ اسے سردی سے بچنے کے لیے پہنا جاتا ہے۔ حدیث میں اس جملے کا معنی یہ ہے کہ موزوں کو پوری طرح طہارت کے حصول کے بعد پہنا گیا ہو۔ چنانچہ شرط ہے کہ موزوں کو حالتِ طہارت میں پہنا گیا ہو اگرچہ طہارت حاصل کرنے اور موزوں کے پہننے میں کچھ وقفہ ہو۔ چنانچہ جس شخص نے حالتِ طہارت میں موزوں کو پہنا ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ موزوں پر مسح کر لے۔ مسح کا معنی ہے: گیلے ہاتھ کو عضو پر موزے کے اوپر پھیرنا نہ کہ اس کے اندر اور نیچے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں