عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ».

[صحيح] - [رواه النسائي وأحمد] - [مسند أحمد: 24203]
المزيــد ...

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔

[صحیح] - [اسے نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے] - [مُسنَد احمد - 24203]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ پیلو وغیرہ کی شاخ سے دانتوں کو صاف کرنا منہ کو گندگیوں اور بدبو سے پاک کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ اللہ بندہ سے راضی بھی ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ اللہ کی اطاعت گزاری اور اس کے حکم کی تعمیل ہے اور اس سے صفائی ستھرائی بھی حاصل ہوتی ہے، جو اللہ کو پسند ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مسواک کرنے کی فضیلت اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی امت کو اس بات کی ترغیب کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کریں۔
  2. بہتر یہ ہے کہ انسان پیلو پیڑ کی شاخ سے مسواک کرے، لیکن برش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی اس کے قائم مقام ہوگا۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (67)
مزید ۔ ۔ ۔