عن عمر بن الخطاب: أن رجلا توضأ، فتَرك مَوْضِع ظُفُر على قَدَمِه، فَأَبْصَرَهُ النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: «ارْجِع فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» فرجَع، ثم صلَّى.
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن کی جگہ کو (دھوئے بغیر) چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا: ”واپس جاؤ اور اچھی طرح سے وضو کرو“۔ چنانچہ وہ شخص واپس ہو گیا اور پھر نماز پڑھی۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا، تاہم اس طرح مکمل طور پر نہیں کیا، جس کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے؛ بلکہ اپنے پاؤں میں ایک ناخن کے برابر جگہ پر سے پانی گزارے بغیر ہی اسے چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے جب یہ دیکھا، تو اسے حکم دیا کہ وہ واپس جا کر پھر سے مشروع طریقے سے وضو کرے، بایں طور کہ اعضاے وضو کے ان اجزا میں سے کسی بھی جز کو نہ چھوڑے، جن تک پوری طرح سےپانی بہانا واجب ہے۔ چنانچہ اس نے واپس جاکر دوبارہ وضو کیا اور پھر نماز پڑھی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی کردی پرتگالی
ترجمہ دیکھیں