زمره:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ المَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الجَنَّةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [الأربعون النووية: 22]
المزيــد ...

ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔

[صحیح] - [اسے مسلم نے روایت کیا ہے] - [اربعین نوویہ - 22]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ جو شخص پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرے اور نوافل نہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے اور نفلی روزے نہ رکھے، حلال کو حلال سمجھ کر انجام دے اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو فرائض کی انجام دہی اور محرمات سے کنارہ کشی کا حریص رہنا چاہیے اور اس کا مقصد صرف دخول جنت سے سرفرازی ہونا چاہیے۔
  2. اس حدیث سے حلال کام کو انجام دینے اور اس کی حلت کا عقیدہ رکھنے اور حرام کام سے بچتے رہنے اور اس کی حرمت کا عقیدہ رکھنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
  3. واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے دوری جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (54)
زمرے
مزید ۔ ۔ ۔