عن عائشة -رضي الله عنها-، قالت: «ما تَرَك رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- دينارًا، ولا درهمًا، ولا شاةً، ولا بَعِيرًا، ولا أَوْصى بشيء».
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت ہی کی"۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی وفات کے بعد مال و دولت بالکل نہیں چھوڑا۔ نہ کم نہ زیادہ۔ نہ بکری نہ اونٹ اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور مال۔ اسی طرح آپ نے کسی چیز کے بارے میں وصیت بھی نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہاں ان کی مراد خاص طور سے مال کی وصیت ہے۔ کیونکہ انسان مال کے بارے میں وصیت اس وقت کرتا ہے، جب کوئی اس کا وارث بنتا ہو۔ جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی، جس کا کوئی وارث بنے کہ وصیت کی ضرورت پڑتی۔ ویسے آپ نے مال کے علاوہ کئی چیزوں کی وصیت کی تھی۔ مثلا نماز کی پابندی کی وصیت اور یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنے کی وصیت۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں