’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو
”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔
جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے، تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے۔ کیوں کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔
یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب تم میں سے کوئی وضو کرلے، تو سو سکتا ہے“۔
جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے
تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔
”جب تم میں سے کوئی شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو (جان لے کہ) یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لہذا اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے اور اسے بیان کرے۔ اور جب اس کے برعکس ناپسندیدہ بات خواب میں دیکھے، تو (جان لے کہ) یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ لہذا اس خواب کے شر سے پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیوں کہ وہ اسےقطعی نقصان نہیں دے سکے گا“۔
اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ لہذا آپ نے اس سے کہا : "اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ"۔ لیکن اس نے جواب دیا : میں (دائیں ہاتھ سے) کھا نہیں سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے (اس کے حق میں بد دعا کے طور پر) کہا : "تو ایسا کر بھی نہیں سکتا
یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔
بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔
جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔
”اچھا خواب اللہ كى جانب سے ہے اور برا خواب شيطان كى جانب سے۔ چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے، تو اپنى بائيں جانب تين بار تھو كے اور شيطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے پر یہ خواب اسے كوئى ضرر نہيں دے گا۔“
میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔
مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘
جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔
سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔
مسلمان کے تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اور پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے تھے۔
”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے۔ دایاں پاؤں پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخری ہو۔
”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا۔
جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے، جو اسے پسند نہیں کرتے، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟
جو شخص ہماری مسجدوں یا ہمارے بازاروں میں سے کہیں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں تھامے رکھے یا پھر اپنی ہتھیلی سے ان کے پھلوں (پیکان) کو پکڑے رکھے تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو ان سے کچھ گزند نہ پہنچے۔
اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔
جسے کوئی خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ وہ ہلکی پھلکی چیز ہے اور اس کی مہک خوشگوار ہوتی ہے۔
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔
نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، اِن شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔
ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!
جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
بندہ جب کسی شے پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف اترتی ہے اور اس کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کسی طرف اسے راہ نہ ملے تو پھر اس کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر کی گئی ہو، اگر وہ اس لعنت کا سزاوار ہو تو ٹھیک وگرنہ لعنت کرنے والے ہی کی طرف لوٹ آتی ہے۔
منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے۔
(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
صحابہ کرام کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں
قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾
چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔
جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے۔
شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔
اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔
کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:”اے اللہ!،اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب و حاضر کو جاننے والے، اے وہ ذات جو ہر شے کی رب اور مالک ہے! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شراوراس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں“۔
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔
رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور میں آپ ﷺ سے (سن کر) یاد کرلیا کرتا تھا۔ (ان احادیث کو) بیان کرنے میں میرے لیے سوائے اس کے کوئی شے مانع نہیں ہوتی تھی کہ یہاں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں، جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔
جو شخص طاعون کے مرض میں مبتلا ہوا اور صبر اور اجر وثواب کی نیت رکھتے ہوئے وہ اپنے علاقےمیں ہی مقیم رہا، یہ یقین رکھا کہ اسے صرف وہی تکلیف پہنچے گی، جو اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھی ہے، تو اسے شہید کے اجر کے مساوی اجر ملے گا۔
جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے، تو سلام کرے اور جب اٹھ کر جانے لگے، تو بھی سلام کرے اور پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے
جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، تو اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔
نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔
شیطان اپنے لیے ایسے کھانے کو حلال کرلیتا ہے کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے چنانچہ شیطان اس لڑکی کو لایا تاکہ وہ اپنے لیے کھانا حلال کرے تو میں نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ شیطان اس دیہاتی آدمی کو لایا تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے اپنا کھانا حلال کرلے تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔
جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس۔
بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے
سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھائے جو اس نے نہیں دیکھا، یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔
ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔
ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس طرح سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔
دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا : سوائے اس صورت کے، جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھایا کرتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انھیں چاٹ لیا کرتے تھے۔
جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم دیگر لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی
كوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ بیٹھ جائے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو۔
جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے۔ اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے
جو شخص الله كے حضور تواضع اختیار کرتے ہوئے قیمتی لباس چھوڑ دیتا ہے، حالاں کہ وہ اسے پہن سکتا ہو، تو روز قیامت اللہ اسے یہ اختیار دینے کے لیے سب کے سامنے بلائے گا کہ وہ جنتی لوگوں کے لباس میں سے جس لباس کو چاہے، پہن لے۔
میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میری ازار لٹک رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اپنی ازار اونچی کرو“ میں نے اسے اوپر اٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اٹھاؤ“ میں نے اور اٹھائی، میں اپنی ازار اٹھاتا اور اس کا خیال کرتا رہا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہاں تک اٹھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھی پنڈلیوں تک“۔
مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا۔
کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔
ان کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ہلاک کردیا یا فرمایا تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے۔
اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اور گھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ مانگتے تھے۔
جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے دو) اور جب تم خشک سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو ( یعنی سفر کے دوران راستہ میں تاخیر نہ کرو) اور ان کی سکت ختم ہونے سے پہلے (منزلِ مقصود تک) پہنچنے کی کوشش کرو۔
رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔
رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔
رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ...
اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔
رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔
جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔
اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔
جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔
آپس میں ایک دوسرے کے لیے نہ تو اللہ کی لعنت کی بد دعا کرو اور نہ اللہ کے غضب کی اور نہ جہنم میں جانے کی بد دعا کرو۔
آپس ميں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ بھی کہیں گے، اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا، يہاں تک کہ مظلوم زیادتی کرے۔
برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، مشکیزے کا منہ بند کر دیا کرو، دروازوں کو بھڑا دیا کرو اور چراغ کو بجھا دیا کرو۔ کیوںکہ شیطان نہ تو مشکیزے کی گرہ کھولتا ہے، نہ بند دروازے کو کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کو کھولتا ہے۔
اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے (کھانے کے بعد) انگلياں اور پليٹ چاٹ لينے کا حکم ديا، اور فرمايا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ان ميں سے کس (کھانے ) میں برکت ہے۔
فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔
ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس کے حق میں دعا کرے اور اگر روزہ سےنہ ہو تو کھا لے۔
میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔
شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ ڈال دے۔
میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا۔
ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سے سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔
جب تم میں سے کوئی چھینکے تو ”الحمد اللہ“ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ”يَرْحَمُكَ الله“ کہے۔ جب ساتھی ”يَرْحَمُكَ اللہ“ کہے، تو اس کے جواب میں چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ کہے۔
اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔
”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں"۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ حقوق کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "جب اس سے ملو، تو اسے سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرو، جب تم سے مشورہ مانگے تو اسے اچھا مشورہ دو، جب چھینکے اور ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہے تو اس کا جواب دو (یعنی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہو)، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ چلو“۔
جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔