1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ».

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 5783

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھمنڈ کے طور پر کپڑے یا ازار کو ٹخنوں کے نیچے لٹکائے رکھنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسا کرنے والا اس شدید وعید کا حق دار ہے کہ اللہ قیامت کی دن اس پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. حدیث میں وارد لفظ "ثوب" (کپڑے) کے اندر پاجامہ اور لنگی وغیرہ وہ سارے کپڑے داخل ہیں، جو بدن کے نچلے حصے کو ڈھانپتے ہیں۔
  2. (ٹخنے سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ نووی کہتے ہیں: عورتوں کے لیے کپڑا لٹکانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں انھیں ایک ہاتھ کپڑا لٹکانے کی اجازت دی گئی ہے۔
  3. ابن باز کہتے ہیں: مردوں کے لیے کپڑا لٹکا کر پہننا عام احادیث کی بنا پر ممنوع وحرام ہے۔ لیکن اس کی سزا ایک جیسی ہو یہ ضروری نہيں ہے۔ الگ الگ بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والا تکبر کے بغیر لٹکانے والے کی طرح نہیں ہے۔
  4. ابن باز کہتے ہيں: عورت کے پورے جسم کو چھپانا ضروری ہے۔ لہذا اس کے لیے ایک بالشت لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر اتنا کافی نہ ہو، تو ٹخنوں کے نیچے ایک ہاتھ لٹکائے گی۔
  5. قاضی کہتے ہیں: علما نے کہا: خلاصۂ کلام یہ کہ لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے ضرورت اور عادت سے زیادہ ہر لباس ناپسندیدہ ہے۔ واللہ اعلم
  6. نووی کہتے ہيں: ویسے تو قمیص اور لنگی کے کنارے کو نصف پنڈلی پر رکھنا مستحب ہے۔ لیکن پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان کہیں بھی رکھنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ اگر اس سے نیچے رکھا جاتا ہے تو جسم کا وہ حصہ آگ میں داخل ہوگا۔ اس طرح آدھی پنڈلی پر رکھنا مستحب اور اس سے نیچے ٹخنوں تک رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ جب کہ ٹخنوں کے نیچے اتارنا ممنوع ہے۔
  7. ابن عثیمین کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "لا ينظر الله إليه" کے معنی ہیں: رحمت و رافت کی نظر سے نہيں دیکھے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نظر سے کچھ اوجھل رہتا ہے۔ یہاں مراد بس رحمت و رافت کی نظر سے دیکھنا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

45 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
زمرہ جات (کٹیگریز)