الحديث الأول: عن ابن مسعود مرفوعًا: «ما من شيء في الميزان أثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ. وإن الله يُبْغِض الفاحش البَذِيء». الحديث الثاني: عن أبي الدرداء مرفوعًا: «ليس المؤمن بِالطَّعَّان، ولا اللَّعَّان، ولا الفاحش، ولا البَذِيء».
[الحديث الأول: صحيح الحديث الثاني: صحيح] - [الحديث الأول رواه أبو داود والترمذي لكنه عند أبي داود مختصرًا. والحديث الثاني رواه الترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بےحیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے“۔
یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

شرح

پہلی حدیث میں خوش خلقی کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور دوسروں کو تکلیف دینے سے باز رہنے، بہت زیادہ فیاضی اورخندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنے کا نام خوش خلقی ہے اور قیامت کے دن بندہ کے میزان میں ان اعمال سے بھاری کوئی اور عمل نہ ہوگا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ (بےحیائی اور فحش گوئی کی) اس بری صفت سے سخت نفرت کرتا ہےکہ وہ بدکلام اور فحش گو ہو۔ دوسری حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ کمال درجے کا ایمان رکھنے والے کی یہ صفات نہیں ہوتیں کہ وہ بہت زیادہ طعن و تشنیع کرنے والا، عیب جو اور لوگوں کی عزت و ناموس کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہو اور نہ ہی یہ صفات ہوتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ گالی گلوچ اور لعنت وملامت کرنے والا ہو۔ چنانچہ وہ لوگوں کے حسب و نسب یا ان کی عزت و آبرو پر طعنہ زنی کرنے والا یا ان کی صورتوں اور ہیئتوں میں عیوب نکالنے والا یا ان کی امیدوں و تمناؤں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ایمان کی مضبوطی، اس کو اعلی اخلاق کے زیور سے آراستہ ہونے اور برے اخلاق سے دور رہنے پر آمادہ کرتی ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں