عن شداد بن أوس رضي الله عنه مرفوعًا:« إن الله كتب الإحسانَ على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسِنوا القِتلةَ وإذا ذبحتم فأحسِنوا الذِّبحة، وليحد أحدُكم شَفْرَتَه ولْيُرِحْ ذبيحتَهُ».
[صحيح] - [رواه مسلم]
المزيــد ...

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص (جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے“۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

مسلمان سے یہ امر مطلوب ہے کہ وہ اپنے دل اور نیت کا صاف ہو، عبادت واطاعت میں عمدہ ہو، اپنے کام اور پیشے میں بہترین ہو، انسانوں اور حیوانوں سے بلکہ جمادات سے بھی عمدہ اور بہترین سلوک کرتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جانور کو ذبح کرنے والا اسے ذبح کرکے اسے تکلیف دیتا ہے، لیکن اس جانور (کے گوشت وغیرہ) سے مستفید ہونے کے لیے اسے ذبح کرنا بھی ضروری ہے، یہاں رحمت وشفقت، نرمی اور مہربانی کے جذبات کو ایک مومن کے دل میں پیدا کرنا مقصود ہے کہ وہ ان جذبات سے عاری نہ ہوجائے اگرچہ وہ ذبح کر رہا ہو یا کسی کو حق کے ساتھ قتل کر رہا ہو۔ در اصل یہ تنبیہ ہے کہ جب ذبح اور قتل کے دوران احسان کے معاملہ کا مطالبہ ہو رہا ہے تو دوسرے اعمال میں یہ بدرجہ اولی مطلوب ومقصود ہے۔ چھری کو تیز کرنا اور جانور کو آرام پہنچانا بھی احسان کی ایک شکل ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جرمنی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. احسان (بھلائی اور ہر کام کو اچھے انداز میں کرنے) کا حکم ہر چیز میں اس کے حساب سے ہے۔ ظاہری و باطنی واجبات کے انجام دینے میں احسان ان واجبات کو کامل طریقے سے انجام دینا ہے۔ ان واجبات میں اتنی مقدار میں احسان واجب ہے۔ جب کہ ان کاموں میں یہ احسان کہ انھیں ان کے مستحب امور کا بھی لحاظ رکھتے ہوئے انجام دیا جائے، مستحب ہے۔ محرّمات کے چھوڑنے میں احسان یہ ہے کہ ان سے باز رہاجائے اور ظاہری و باطنی طور سے ان کو ترک کردیا جائے۔ ان میں اتنی مقدار میں احسان واجب ہے۔ اللہ کے فیصلوں پرصبر کرنے میں احسان یہ ہے کہ بغیر کسی ناراضگی کے ان پر صبر کیا جائے اور جزع و فزع سے کام نہ لیا جائے۔ لوگوں کے ساتھ رہنے سہنے اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں واجب احسان یہ ہے کہ اللہ نے ان کے جو حقوق واجب کیے ہیں انھیں ادا کیا جائے۔ مخلوق سے دوستی میں واجب احسان یہ ہے کہ ان کے سلسلے میں مشروع دوستی کے تقاضوں کوادا کیا جائے۔ جن چوپایوں کا قتل کرنا جائز ہے، انھیں قتل کرنے میں احسان یہ ہے کہ سب سے تیز، سب سے آسان اور بہتر طریقے سے ان کی جان لی جائے اور انھیں زیادہ تکلیف نہ دی جائے، کیوں کہ یہ بلاضرورت تکلیف دینا ہے۔
  2. بندوں پر اللہ کی شفقت اور یہ کہ اس نے ہر چیز میں احسان کو لکھ دیا ہے۔
  3. اللہ عزّوجل کو حکم و فیصلہ کرنے کا اختیارحاصل ہے، کیوں کہ آپ نے فرمایا ہے: "إِنَّ اللهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ" یعنی اللہ نےاحسان کو ضروری قراردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا واجب کرنا دوطرح سے ہے: قدری طور سے واجب کرنا اور شرعی طور سے واجب کرنا۔
  4. احسان ہر اس چیز میں شامل ہے، جس میں احسان کرنا ممکن ہو،کیوں کہ آپ کا فرمان ہے:"إِنَّ الله كَتَبَ الإِحسَانَ عَلَى كِلِّ شَيء"یعنی اللہ نے ہرچیز میں احسان کو ضروری قرار دیا ہے۔
  5. اللہ کے نبیﷺکا مثالوں کے ذریعہ سکھلانے کا بہترین انداز، کیوں کہ مثالیں معانی کو قریب کر دیتی ہیں، جیسا کہ آپ کےفرمان: إِذَا قَتَلتُمْ. إِذَا ذَبَحْتُمْ. ’’جب تم قتل کرو، جب تم ذبح کرو‘‘ میں ہے۔
  6. ذبح کرتے وقت احسان کا خیال رکھنا ضروری ہے ، کیوں کہ یہ ذبح کی حالت کی صفت ہے، ذبح کرنے کے فعل کی نہیں۔
  7. ذبح کرتے وقت احسان کرنے کا مطلب ہے، مشروع طریقہ سے جانور کو ذبح کرنا۔
  8. کسی جانور کو تکلیف دینا حرام ہے۔ جیسے اسے نشانہ بناکر تیر اندازی کی مشق کرنا، اسے بھوکا رکھنا اور اسے کھانا پانی دیے بغیر بند رکھنا۔
  9. اس شریعت کا کامل اور ہرطرح کی بھلائی پر مشتمل ہونا۔ اسی کی ایک مثال ہے جانوروں کے ساتھ رحم کا برتاؤ اور ان کے ساتھ مہربانی کرنا۔