میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟
تمہارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔
جب مکھی کسی کے (مشروب سے بھرے) برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے۔
اللہ نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی
ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا گيا، تو آپ نے ان کو اسے بنانے سے منع کیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ میں تو بس دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : "وہ دوا نہیں، بلکہ بیماری ہے"
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
اللہ تعالیٰ، یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا۔
جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہے۔
جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔
میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔
وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ! ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی۔
جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کےلیے سو نیکیاں ہیں۔ دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اور ناخن (سے شکار کرنے والے) پرندے (کا گوشت کھانے) سے منع فرمایا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جلالہ یعنی گندگی کھانے والے اونٹ پر سوار ہونے اور اس کا دودھ پینے سے منع کیا ہے
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر، گھی اور سانڈے ہدیے کے طور پر بھیجے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم- نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور سانڈہ کو کراہت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔
جب تم کسی شکار پر تیر چلاو اور وہ غائب ہو جائے اور پھر بعد میں ملے، تو اسے کھاو، جب تک اس میں بد بو نہ آ جائے
کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس پر اللہ کا نام لو اور کھاو"
ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کر دیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا
’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا، تو وہی مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے، اس لیے اللہ کے ذمہ کو نہ توڑو۔‘‘
اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔