عن أنس بن مالكٍ -رضي الله عنه- قال: «ضَحَّى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقَرْنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے قربان کیے۔ (ذبح کرتے ہوئے) آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھی، تکبیر کہی اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۔

شرح

قربانی کی تاکید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی قربانی کی۔ آپ ﷺ نے دو مینڈھے قربان کیے جن کا رنگ کالا اور سفید تھا اور وہ سینگوں والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے دست اقدس سے انھیں ذبح کیا کیوں کہ یہ ایک بہت ہی جلیل القدر عبادت ہے اس لیے آپ ﷺ نے بذاتِ خود اسے سرانجام دیا۔ ذبح کرتے وقت آپ ﷺ نے اللہ کی مدد کے حصول کے لیے اللہ کا نام لیا تاکہ اس سے برکت کا نزول ہو اور خیر اس کی ہمر کاب ہو۔اللہ کی بڑائی اور اس کی عظمت کے بیان کے لیے، عبادت کو تن تنہا اسی کے ساتھ خاص کرنے کے لیے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے کمزوری اور فروتنی کے اظہار کے لیے آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا۔ چوں کہ ذبیحہ پر رحم کے تقاضے کے تحت اس کی روح جلد نکال کر اسے اچھے انداز میں ذبح کرنا مطلوب ہے اس لیے آپ ﷺنے اپنا پاؤں مبارک ان کےپہلوؤں پر رکھا تاکہ وہ ذبح کرتے ہوئے ہلنے نہ پائیں اس لیے کہ ہلنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کے ذبح ہونے میں زیادہ وقت لگے جس سے انھیں تکلیف پہنچے۔ اللہ اپنی مخلوق پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں