عَن أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضي الله عنها قَالت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 1977]
المزيــد ...

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو، جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے، تو وہ قربانی کرنے سے پہلے اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔"

[صحیح] - [اسے مسلم نے روایت کیا ہے] - [صحیح مسلم - 1977]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نکل جانے کے بعد قربانی کر لینے تک اپنے سر، بغل اورمونچھ وغیرہ کے بال نہ کاٹے اور نہ ہی ہاتھ پاؤں کے ناخن کاٹے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. جس نے عشرہ ذی الحجہ کے داخل ہونے کے بعد قربانی کرنے کی نیت کی، وہ نیت کرنے کے بعد سے قربانی کرنے تک مذکورہ امور سے باز رہے۔
  2. اگر کوئی پہلے دن قربانی نہ کرے، تو وہ مذکورہ امور سے رکا رہے گا یہاں تک کہ وہ تشریق کے ایام میں کسى دن قربانی کرلے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (42)
مزید ۔ ۔ ۔