فہرست احادیث

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی“۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی۔ میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے، میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز میں آنے سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمھاری بکری محض گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! لیکن تمھارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔

یزید بن شریک بن طارق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی -رضی اللہ عنہ - کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، چنانچہ میں نے انھیں یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی قسم! ہمارے پاس کوئی اور کتاب نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، سوائے اللہ کی کتاب کے اور ان احکام کے جو اس صحیفے میں موجود ہیں“، پھر انھوں نے اسے کھولا تو اس میں: دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان اور کچھ زخموں کی دیت سے متعلق احکام تھے۔ اور اس صحیفے میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’مدینہ‘ عیر سے ثور تک حرم ہے، جس کسی نے اس میں بدعت ایجاد کی، یا کسی بدعتی کو پناہ دی، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔ مسلمانوں کا عہد و امان ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہوسکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کے عہد کو توڑ دیا، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔ اور جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی، یاجس نے اسے آزاد کیا اس کے علاوہ کسی اور کی طرف آزادی کی نسبت کی، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص کی نہ تو توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ۔ (متفق علیہ)۔ ’ذمۃ المسلمین‘ سے مراد مسلمانوں کا عہد اور ان کا امان دینا، و ’اٗخفرہ‘ یعنی اس نے عہد توڑ دیا، ’صرف‘ یعنی توبہ اور بعض نے اس کا معنی حیلہ، بہانا بتایا ہے اور ’عدل‘ بمعنی فدیہ ہے۔