1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث اللہ کے نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کا ایک اونٹ ہانکے جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کہ اس پرسوار ہو جاؤ۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه «أن نبي الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يَسُوقُ بَدَنَةً، فقال: اركبها، قال: إنها بَدَنَةٌ، قال اركبها، فرأيته رَاكِبَهَا، يُسَايِرُ النبي صلى الله عليه وسلم ». وفي لفظ: قال في الثانية، أو الثالثة: «اركبها وَيْلَكَ أو وَيْحَكَ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کا ایک اونٹ ہانکے جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: سوار ہو جاؤ۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار تھا اور نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ دوسری یا تیسری دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے! اس پر سوار ہو جاؤ“۔

صحیح متفق علیہ

شرح

جب نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ ہانکے جا رہا ہے حالانکہ اس کو اس پر سوار ہونے کی ضرورت تھی تو آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔ چونکہ ہدی کا جانور ان لوگوں کے نزدیک بہت قابلِ تعظیم ہوتا تھا جسے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا تو صحابی رسول نے استفہامی انداز میں کہا کہ یہ تو بیت اللہ کی طرف بطور ہدی جانے والا اونٹ ہے (اس پر کیسے سوار ہوا جا سکتا ہے؟)۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ اگرچہ یہ بیت اللہ کی طرف بطور ہدی بھیجا جانے والا جانور ہی ہے۔ اس شخص نے دوسری اور تیسری باری آپ ﷺ سے ایسے ہی کہا اور آپ ﷺ نے تاکید بھرے انداز میں اس کی سواری کے جائز ہونے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:کہ اس پر سوار ہو جاؤ اگرچہ یہ ہدی ہی کا جانور ہے۔ چنانچہ وہ آدمی اس پر سوار ہو گیا۔

تراجم کا مشاہدہ

15 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
PT Português البرتغالية