1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانہ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ‘‘۔(سورۂ بقرہ:198)۔ ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (رزق، ذرائع معاش) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: كانت عُكَاظُ، ومَجِنَّةُ، وذُو المجَازِ أسوَاقَاً في الجاهلية، فَتَأَثَّمُوا أنْ يَتَّجِرُوا في المواسم، فنزلت: {ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلاً من ربكم} "البقرة" (198) في مواسم الحج.

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانۂ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ.(البقرۃ: 198)‘‘۔ ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (روزی روٹی) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں ہے ـــــــــــــ یعنی زمانہ حج میں۔

صحیح اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

اسلام سے قبل یہ جگہیں مشرکین کے بازار ہوا کرتی تھیں جن میں وہ ایامِ حج کے دوران خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ایامِ حج میں ان بازاروں میں خرید و فروخت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو جائیں۔ اس پر اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ زمانۂ حج میں تجارت حج کو فاسد نہیں کرتی جب کہ مناسک حج کو شرعی طریقے سے ادا کر دیا جائے۔ اگرچہ ایام حج میں تجارت کرنا جائز ہے تاہم اولی اور زیادہ بہتر یہی ہے کہ مکمل طور پر مناسک حج کی ادائیگی کے لیے فارغ رہا جائے۔ یہ زیادہ افضل ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

18 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
HA Hausa الهوسا
ML മലയാളം المليالم
TA தமிழ் التاميلية