”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔
”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو
ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے کارندے کو (جب قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو) کہہ دیتا : اگر تم کسی تنگ دست کے پاس آؤ تو اس سے درگزر کرنا ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ بھی ہم سے درگزر کرے
تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) اس گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو، یہ گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔
”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں
”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق
تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔
”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔
سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔
”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔
اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے
’’نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں‘‘۔
”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔
جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔
”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرم گاہ۔
(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کی توقیر کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے۔
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔
مسلمان امانت دار خزانچی جسے کسی چیز کے دینے کا حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے پوری طرح بنا کسی کمی کے خوش دلی کے ساتھ اس شخص کو دے جسے دینے کا اسے حکم دیا گیا ہو تو اس کا شمار صدقہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔
جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے، چن لے۔
جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، آج کے دن جب کہ میرے سایے کے سوا کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔
اللہ کے ہاں (قدر و منزلت کے اعتبار سے) سب سے بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے لیے اچھا ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو۔
وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرائے اور اس سلسلے میں اچھی بات ان تک پہنچائے یا اچھی بات کہے۔
میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔
یوں نہ کہو کہ ’عليكَ السلامُ‘، کیونکہ ’علیک السلام‘ سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے، اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔
جو شخص الله كے حضور تواضع اختیار کرتے ہوئے قیمتی لباس چھوڑ دیتا ہے، حالاں کہ وہ اسے پہن سکتا ہو، تو روز قیامت اللہ اسے یہ اختیار دینے کے لیے سب کے سامنے بلائے گا کہ وہ جنتی لوگوں کے لباس میں سے جس لباس کو چاہے، پہن لے۔
الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے۔
یقیناً تم اپنے مال ودولت کے ذریعے لوگوں کا دل نہیں جیت سکتے تاہم تمہارا اچھا اخلاق اور ملاقات کے وقت خندہ پیشانی سے ملنا ان کے دل جیت سکتا ہے۔
کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے، سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے۔
تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)۔
میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے ہیں۔
اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔
یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (نیک) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا۔
آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے
جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے
امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔جب کہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہوتاہے، جسے میں دیتا ہوں۔
مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔
بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔
نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا، اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا۔
ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔
”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔