عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال:
سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 36]
المزيــد ...

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں سمجھاتے ہوئے سنا، تو فرمایا : "حیا ایمان کا حصہ ہے۔"

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحیح مسلم - 36]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو زیادہ حیا نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے سنا تو اس کے سامنے یہ واضح کر دیا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیا سے انسان کا بھلا ہی ہوتا ہے۔
حیا ایک ایسی صفت ہے، جو انسان کو اچھا کام کرنے اور برے کام سے بچنے پر آمادہ کرتی ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. جو اچھے کام سے روکے، اسے حیا نہیں، بلکہ خجالت، عاجزی، کم زوری اور بزدلی کہيں گے۔
  2. اللہ سے حیا کا مطلب ہے اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا۔
  3. لوگوں سے حیا کا مطلب ہے ان کا احترام کرنا، ان کو ان کا مناسب مقام دینا اور ان چیزوں سے دور رہنا جن کو عادۃ برا سمجھا جاتا ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (67)
مزید ۔ ۔ ۔