عن أبي أمامة إياس بن ثعلبة الأنصاري الحارثي -رضي الله عنه- قال: ذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوماً عنده الدنيا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تسمعون؟ ألا تسمعون؟ إن البَذَاذَةَ من الإيمان، إن البَذَاذَةَ من الإيمان» قال الراوي: يعني التَّقحُّل.
[حسن لغيره.] - [رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد.]
المزيــد ...

ابو امامہ ایاس ابن ثعلبہ انصاری حارثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دن آپ ﷺ کے پاس دنیا کا ذکر کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے، سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے آپﷺ کی مراد تکلفات اور زیب وزینت کی چیزوں کو ترک کرنا ہے۔
حَسَن لغيره - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے ہو؟“ یعنی سنو، تاکید پیدا کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے اسے دہرایا۔ لباس اور زیب وزینت میں تواضع اختیار کرنا اہلِ ایمان کے اخلاق کا ایک جزء ہے جس کا سبب ایمان ہی ہوا کرتا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں