1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے، سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے۔

عن أبي أمامة إياس بن ثعلبة الأنصاري الحارثي رضي الله عنه قال: ذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوماً عنده الدنيا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تسمعون؟ ألا تسمعون؟ إن البَذَاذَةَ من الإيمان، إن البَذَاذَةَ من الإيمان» قال الراوي: يعني التَّقحُّل.

ابو امامہ ایاس ابن ثعلبہ انصاری حارثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دن آپ ﷺ کے پاس دنیا کا ذکر کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے، سادہ لباسی ایمان کا حصہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے آپﷺ کی مراد تکلفات اور زیب وزینت کی چیزوں کو ترک کرنا ہے۔

حَسَن لغيره اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

شرح

نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے ہو؟“ یعنی سنو، تاکید پیدا کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے اسے دہرایا۔ لباس اور زیب وزینت میں تواضع اختیار کرنا اہلِ ایمان کے اخلاق کا ایک جزء ہے جس کا سبب ایمان ہی ہوا کرتا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

15 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا