+ -

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم:
«لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ».

[صحيح] - [رواه مسلم]
المزيــد ...

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا :
”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔

صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھا کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسان کسی اچھے کام کو حقیر نہ جانے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس کی حرص ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے مسلمان بھائی کو انسیت ملتی ہے اور اس کے اندر مسرت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جرمنی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مومنوں کی آپسی محبت اور ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنے کی فضیلت۔
  2. اسلامی شریعت ایک مکمل اور جامع شریعت ہے، جس میں مسلمانوں کی خیر و فلاح اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے والی ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔
  3. اچھا کام کرنے کی ترغیب، چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔
  4. مسلمانوں کو خوش ہونے کا موقع دینا مستحب ہے، کیوں کہ اس سے آپسی محبت پیدا ہوتی ہے۔
مزید ۔ ۔ ۔