عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا أتاه طالب حاجة أقبل على جُلسائِه، فقال: «اشْفَعُوا تُؤجَرُوا، ويَقْضِي الله على لسانِ نَبِيِّه ما أحب». وفي رواية: «ما شاء».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہم مجلس لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے: تم (اس کی) سفارش کرو، تمہیں بھی اجر ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتاہے۔'' اور ایک روایت میں ہے: "ما شاء" یعنی (اللہ) جو چاہتا ہے (فیصلہ فرما دیتاہے)۔

شرح

یہ حدیث ایک بہت بڑے اصول اورایک بہت ہی مفید بات پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہے چاہے ان کے مقاصد اور ثمرات و نتائج حاصل ہوں، یا ان کا کچھ حاصل ہو، یا ان میں سے کچھ بھی پورا نہ ہو۔ جیسے کہ ضرورت مندوں کی حکمرانوں، بڑے لوگوں اور جن کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں ان کے پاس سفارش کرنا۔ بہت سے لوگوں کو اگر یہ یقین نہ ہو کہ ان کی سفارش قبول ہوگی تو وہ سفارش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی بھلائی سے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کی جاسکنے والی ایک نیکی سے اپنے آپ کو محروم کردیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ضرورتمندوں کی آپ ﷺ کےپاس سفارش کرکے ان کی مدد کیا کریں تاکہ اللہ تعالی سے اس کا فوری ثواب پاسکیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔'' کیونکہ اچھی سفارش اللہ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : (مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا) (النساء: 85) ترجمہ: ''جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا۔'' فوری اجر پانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نیکی اور بھلائی بھی کرتا ہے اور یوں اس کا اس پر احسان بھی ہوجاتا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی سفارش کی بدولت اس شخص کی پوری یا جزوی مقصد برآری بھی ہوجائے ۔ اچھی چیزوں اور بھلائی کے کاموں میں سعی وکوشش کرنا جن کے حاصل ہونے یا نہ ہونے دونوں کا امکان رہتا ہے بذات خود ایک فوری نیکی ہے اور نفس کو بھلائی کے کام میں مدد کرنے کا عادی بنانا ہے اور ایسی سفارشیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جن کے قبول ہونے کا یقین،یا گمان ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ :" اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہتا ہے فیصلہ فرما دیتاہے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا ہونا یا نہ ہونا اللہ کے علم میں گذر چکا ہے اس میں سے جس چیز کا اللہ ارادہ کرتا ہے فیصلہ فرمادیتا ہے۔ چنانچہ جو شے مطلوب ہے وہ سفارش کا کرنا ہے ۔ اور اس پر ثواب مل کر رہتا ہے چاہے جس شے کی سفارش کی جائے وہ حاصل ہو یا پھر کسی رکاوٹ کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے ۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں