حدیث کی فہرست

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
عربي الإنجليزية الأوردية
”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحہ کا معمول تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے، تو سلام کرے اور جب اٹھ کر جانے لگے، تو بھی سلام کرے اور پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس۔
عربي الإنجليزية الأوردية
لوگوں میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے، جو ان میں سے سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس طرح سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
چھوٹا بڑے کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے۔ اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
ان کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اے ابو بطن! ہم لوگوں کو سلام کرنے کی غرض سے بازار جاتے ہیں، کہ جس سے ملیں اسے سلام کریں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
عليك السلام نہ کہو۔ عليك السلام سے تو مردوں کو سلام کیا جاتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
عربي الإنجليزية الأوردية