1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن عليَّ بنَ أبي طالبٍ رضي الله عنه خَرَجَ من عندِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم في وَجَعِهِ الذي تُوُفِّيَ فيه، فقالَ الناسُ: يا أبَا الحَسَنِ، كيفَ أَصْبَحَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قالَ: أَصْبَحَ بِحَمدِ اللهِ بَارِئًا.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس میں علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہاں سے باہر آئے۔ لوگ پوچھنے لگے: اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے صبح کیسے کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

صحیح اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ہاں سے باہرآئے، جب کہ آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا تھے، جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد تھے۔ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ: آج نبی ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ یہ سوال صحابۂ کرام کی نبی ﷺ کےساتھ چاہت و محبت اور آپ ﷺ کےلیے ان کی فکرمندی کی بنا پر تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

14 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا