1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!

عن أنس رضي الله عنه قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، الرجلُ مِنّا يَلقى أخاه، أو صديقَه، أَيَنْحَني له؟ قال: «لا»، قال: أَفَيَلْتَزِمُهُ ويُقبِّلُهُ؟ قال: «لا» قال: فيأخذ بيده ويصافحُهُ؟ قال: «نعم».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی جب اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں!، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں!، اس نے کہا: تو پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!۔

حَسَنْ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

شرح

انسان کے اپنے (مسلمان) بھائی سے ملاقات کے وقت جھکنے کے متعلق نبی ﷺ سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے جھکا نہیں جائے گا۔ پوچھنے والے نے کہا: کیا جھکنے کی بجائے اس سے چمٹ جائے اور معانقہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! پھر سائل نے پوچھا: کیا مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔

تراجم کا مشاہدہ

16 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية