عن أنس بن مالك رضي الله عنه:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ.

[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري: 2582]
المزيــد ...

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔

[صحیح] - [اسے بخاری نے روایت کیا ہے] - [صحیح بخاری - 2582]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت تھی کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے۔ کوئی خوش بو ہدیہ کرے، تو قبول کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ ایک تو اسے ساتھ رکھنا آسان ہوتا ہے اور دوسرا اس کی بو بھی اچھی ہوتی ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. خوش بو کا ہدیہ قبول کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اسے ساتھ رکھنا مشکل نہیں ہے اور اسے قبول کرنے سے کسی کے احسان تلے دبنا نہيں پڑتا۔
  2. یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا ہے کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے اور ہدیہ کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے تھے۔
  3. خوش بو استعمال کرنے کی ترغیب۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (63)