عن سهل بن سعد -رضي الله عنه-: أن رسولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِيَ بشرابٍ، فَشَرِبَ منهُ وعن يميِنِه غُلامٌ، وعن يسارِه الأشياخُ، فقالَ للغُلامِ: "أَتَأذَنُ لِي أنْ أُعْطِيَ هؤلاء؟"، فقالَ الغلامُ: لا واللهِ يا رسولَ اللهِ، لا أُوثِرُ بنَصِيبي منك أحداً. فَتَلَّهُ رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- في يدِه.
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب بڑی عمر کے لوگ بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے لڑکے سے پوچھا کہ ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان کو دے دو؟“۔ لڑکے نے کہا کہ اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ!۔میں آپ سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس مشروب (کے برتن کو) اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

حدیث میں نبی ﷺ نے لڑکے سے اس بات کی اجازت لینا چاہی کہ وہ مشروب کو اس سے پہلے بڑے لوگوں کو دے دیں۔ آپ ﷺ ایسا بڑی عمر کے لوگوں کا دل رکھنے، ان سے اظہارِ محبت اور ان کی بزرگی کے ایثار میں کیا کیونکہ از روئے سنت یہ ممنوع نہیں تھا۔ اس میں اس سنت کا بیان ہے کہ دائیں طرف والا زیادہ حق دارہوتا ہے اور کسی اور کو اس کی اجازت کے بغیر نہیں دیا جا سکتا تاہم اس سے اجازت مانگنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اجازت دے ہی دے، بلکہ اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ اگر اجازت دینے سے کوئی فضیلت یا دینی مصلحت ہاتھ سے نکل رہی ہو تو وہ اجازت نہ دے۔ یہ لڑکے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی
ترجمہ دیکھیں