1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:
«أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟»، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ»، قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو‘‘۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں فی الواقع موجود ہو، تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو، اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے، تو تم نے اس پر تہمت باندھی"۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 2589

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حدیث میں حرام كرده غیبت کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں۔ دراصل غیبت نام ہے کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کرنے کا، جو اسے پسند نہ ہو۔ چاہے کہی گئی بات کا تعلق اس کے جسمانی بناوٹ سے ہو یا عادت و اخلاق سے۔ جیسے کسی کے بارے میں بھینگا، دھوکے باز اور جھوٹا وغیرہ ایسی باتیں کہنا، جن سے مذمت ہوتی ہو۔ چاہے وہ بات اس کے اندر موجود ہی کیوں نہ ہو۔
اگر موجود نہ ہو، تو یہ بہتان یعنی الزام تراشی ہے، جو کہ غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلیم دینے کا بہترین طریقہ کہ آپ مسائل کو سوال کی شکل میں پیش کرتے تھے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صحابہ کا ادب و احترام کہ وہ صرف اتنا کہنے پر اکتفا کرتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔
  3. جس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ نہ جانتا ہو، تو اسے اللہ بہتر جانتا ہے، کہہ دینا چاہیے۔
  4. شریعت اسلامیہ نے حقوق کی حفاظت کر کے اور لوگوں کے بیچ بھائی چارہ قائم کر کے ایک صاف ستھرا سماج بنانے کا کام کیا ہے۔
  5. غیبت حرام ہے، البتہ کچھ حالتوں میں کچھ مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں ایک مصلحت ہے ظلم کو روکنا۔ مثلا مظلوم شخص کسی ایسے شخص کے سامنے ظالم کا ذکر کرے، جو اسے اس کا حق دلا سکے۔ وہ کہے کہ مجھ پر فلاں شخص نے ظلم کیا ہے یا میرے ساتھ فلاں شخص نے ایسا سلوک کیا ہے۔ شادی کرنے، ساجھے دار اور پڑوسی بننے وغیرہ کے بارے میں مشورہ کرنا بھی اس طرح کی مصلحتوں میں شامل ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

68 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
JA 日本語 اليابانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
FF Fulfulde الفولانية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
BG Български البلغارية
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
EL Ελληνικά اليونانية
AK Akan الأكانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
LN Lingala اللينجالا
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
BM Bambara البامبارية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
RN Kirundi الكيروندي
YAO Yao الياو
KMR Kurmancî الكرمنجية