حدیث کی فہرست

اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گہ کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرم گاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق
عربي الإنجليزية الأوردية
جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا
عربي الإنجليزية الأوردية
قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”یہ ایک پتھر ہے، جو ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا۔ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو انھوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا، جو کل رات ٹوٹا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا۔ پھر میں نے کہا: میں اس وقت نماز میں نہیں تھا؛ کیوں کہ مجھے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین ۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جو اللہ کے راستے میں دوہری چیز خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں پر سے پکار پکار کر کہا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا
عربي الإنجليزية الأوردية
”قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا، جس کے لئے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبرنہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا ہے،آسانی کرنے والا ہے، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
دوزخیوں میں سے کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں ٹخنوں تک آگ ہوگی، کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ ہوگی، کچھ وہ ہوں گے جن کی کمر تک آگ ہوگی اور کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ آ رہی ہو گی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اس دن (قیامت کے دن) جہنم کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے والا
عربي الإنجليزية الأوردية
پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : تم سدا صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہيں ہوگے۔ تم سدا زندہ رہوگے، کبھی نہيں مروگے۔ تم سدا جوان رہوگے، کبھی بوڑھے نہيں ہوگے۔ تم سدا ناز و نعمت میں رہوگے، کبھی پریشان نہيں ہوگے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، تو ( اس وقت) اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : تمہیں کوئی چیز چاہیے، جو تمہیں مزید عطا کروں؟
عربي الإنجليزية الأوردية
جنتی اپنے اوپر کے بالاخانے والے لوگوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو، جو آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے اورایسا اہل جنت کے مابین پائے جانے والے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت میں ایک کمان کے برابر جگہ، دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی
عربي الإنجليزية الأوردية
اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیوں کہ مجھے جہنم کے اندر تمھاری تعداد سب سے زیادہ دیکھائی گئى ہے"۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالی اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا چودہویں کی رات میں تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وہ کسی بدلی میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا
عربي الإنجليزية الأوردية
’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو دوزخ نے کہا کہ میرے اندر بڑے سرکش اور متکبر لوگ ہوں گے۔ اور جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین قسم کے لوگ ہوں گے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال وعظمت والوں کو روک دیا گیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر مومن یہ جان لے کہ اللہ کے یہاں کس قدر عذاب ہے، تو کوئی اس کی جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر ہے، تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت کی دائمی نعمتوں کی ترغیب اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈراوا
عربي الإنجليزية الأوردية
میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ عز و جل کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
سيحان، جيحان، فرات اور نيل سب جنت کی نہریں ہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے
عربي الإنجليزية الأوردية
دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی، جو دیدار سے مانع ہو گی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟ وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی پوری کی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت میں ایک درخت ہے جس کے نیچے دبلے پتلے تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال بھی چلے گا تب بھی اس کی مسافت کو طے نہیں کر سکے گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعہ لوگ آئیں گے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں اسے اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کردے گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو، تو یہ آیت پڑھو : ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔“
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے میں عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ تو اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی
عربي الإنجليزية الأوردية
روزِ قیامت اللہ ہر مسلمان کے حوالے ایک یہودی یا عیسائی کرے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے چھٹکارے کے لیے تیرا تاوان ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جسے اللہ تعالی نے اس کے دونوں جبڑوں کے مابین موجود شے اور اس کے دونوں پاؤں کے مابین موجود شے کے شر سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی کہ میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ اہلِ جنت میں سے آدھے تم ہو گے کیونکہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہے اور تم مشرکوں کے اندر ایسے ہو جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سرخ بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جنتی اپنے (اوپر کے) بالا خانوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں تاروں کو دیکھتے ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
مومن کے لیے جنت میں ایک ایسے موتی سے بنا خیمہ ہو گا جو اندر سے خالی ہوگا، جس کی لمبائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، جن کے پاس وہ آنا جانا کرے گا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکیں گی"۔
عربي الإنجليزية الأوردية