عن أبي موسى الأشعري -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ثلاثة لا يدخلون الجنة مُدْمِنُ خمر، وقاطع الرحم، ومُصَدِّق بالسِّحْر».
[صحيح لغيره.] - [رواه أحمد وابن حبان.]
المزيــد ...

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے والا"۔
[صحیح لغیرہ] - [اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]

شرح

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو فرد اور سماج کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں : پہلی قسم کے لوگ ہيں ہمیشہ شراب پینے والے، کیونکہ شراب عقل کو زائل کرتی، آدمی کی انسانیت کو مسخ کرتی اور اس کی مروت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، کیونکہ اس سے پریوار کے افراد کے بیچ دشمنی اور تفرقہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھی انسان قریب کے لوگوں سے بھی الگ تھلگ پڑ جاتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ ہیں جادو کی تصدیق کرنے والے، کیوں کہ اس سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جو وعید بیان کی گئی ہے، اس کے اندر جادوگروں کی بتائی ہوئی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا بھی آتا ہے۔ جہاں تک اس بات کو ماننے کی بات ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، تو ایسا ماننے والا اس وعید کے اندر نہیں آتا، کیونکہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی اگر یہ مانے کہ جادو سے چیزوں کی ماہیت بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر یہ مانے کہ جادو لکڑی کو سونا بنادیتا ہے یا اس طرح کى کسی اور بات کو مانے، تو اس کے اس وعید میں داخل ہونے میں کوئی شک نہيں ہے، کیوں کہ یہ کام اللہ عز وجل کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی کردی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں