عن صهيب بن سنان -رضي الله عنه- مرفوعاً: «إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله -تبارك وتعالى-: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبُيِّضْ وُجُوهنا؟ ألم تُدْخِلْنَا الجنة وتُنَجِّنَا من النار؟ فيكشف الحِجَاب، فما أُعْطُوا شيئا أحَبَّ إليهم من النظر إلى ربهم».
[صحيح.] - [رواه مسلم .]
المزيــد ...

صہیب بن سان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں؟ وہ جواب دیں گے:کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو“۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

یہ حدیث شریف اس نعمت کو بیان کرر ہی ہے جو قیامت کے دن جنت میں مومنین کو ملے گی یعنی جنت میں چلے جانے کے بعد ان کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین گفتگو ہو گی بایں طور کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ وہ انہیں ملنے والی نعمتوں پر مزید کس شے کی تمنا کرتے ہیں؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو انواع و اقسام کی نعمتوں میں ہیں کہ ان کے چہروں کو منور کر دیا گیا ہے، انہیں جنت میں داخل کیا گیا ہے اور انہیں جہنم سے نجات دی گئی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ انہیں ایسی نعمت دے گا جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہو گی یعنی ان کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین موجود حجاب کو اٹھا دیا جائے گا اور وہ اللہ کے چہرۂ مبارک کا دیدار کریں گے۔ اہلِ جنت جن نعمتوں میں ہوں گے ان میں یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں