عن عمر -رضي الله عنه- قال: نُهِيَنا عن التَّكَلُّف.
[صحيح.] - [رواه البخاري.]
المزيــد ...

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔
صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ یہ بتلا رہے ہیں کہ صحابہ کرام کو تکلف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ منع کرنے والے اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اس لیے کہ جب صحابی یہ کہیں کہ ہمیں روکا گیا ہے تو اس حدیث کا حکم حدیثِ مرفوع کا ہو جائے گا، گویا صحابی نے یوں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تکلف کرنے سے روکا ہے۔ تكلف: ہر وہ فعل یا قول جسے ایک آدمی دوسروں کے سمانے ظاہر کرتا ہے حالانکہ وہ (قول یا فعل حقیقتاً) اس میں نہیں ہے۔ قول کی مثال: زیادہ سوالات کرنا اور غیر ضروری غامض اشیاء کی بحث وتحقیق کرنا کہ جن کے متعلق بحث وتحقیق کرنا واجب نہیں اور شریعت کے ظاہری مفہوم کے مطابق عمل کرنا اور انہیں قبول کرنا مطلوب ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے جسم پر قمیص تھی جس کی پشت میں چار پیوند لگے تھے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ پڑھی اور فرمایا یہ ﴿فَاكِهَةً﴾ یعنی پھل تو ہم جان چکے ہیں۔ پر یہ ﴿أَبًّا﴾ کیا ہے؟ پھر فرمایا کہ ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ (یعنی اس کے معنی کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں)۔ فعل کی مثال: جیسے مہمان کے آںے پر ایسا اہتمام کیا جائے جو میزبان پر گراں گزرے، بلکہ کبھی وہ اس کے لئے دوسروں سے قرض لیتا ہے۔ بسااوقات یہ قرض چکانے کی طاقت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاتا ہے۔ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی چیز میں تکلف نہ کرے، بلکہ تمام امور کو اعتدال سے نمٹائے، جیسے اللہ کے نبی ﷺ کا حال تھا کہ نہ تو موجود چیز کسی سے روکتے تھے اور نہ معدوم چیز کے لئے تکلف سے کام لیتے تھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی
ترجمہ دیکھیں