عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ».
المزيد
طاوس سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کو پایا، وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :
’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘