1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔

عَنْ يحيى بنِ عُمَارةَ المَازِنِيِّ قَالَ:

شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الكَعْبَيْنِ.

یحی بن عمارہ مازنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں :
میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 186

شرح

یہاں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وضو کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ انھوں نے پانی کا ایک چھوٹا سا برتن منگوایا۔ سب سے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا۔ وہ اس طرح کہ برتن کو جھکا کر دونوں ہتھیلیوں پر پانی ڈالا اور ان کو تین بار برتن سے باہر دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر تین چلو پانی لیا اور ہر چلو سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑی۔ پھر برتن سے تین چلو پانی لے کر تین بار اپنے چہرے کو دھویا۔ پھر اس سے دو دو چلو پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین بار دھویا۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا اور گردن کے اوپری حصے میں واقع گدی تک پہنچے۔ پھر دونوں ہاتھوں کو واپس وہیں لائے، جہاں سے آغاز کیا تھا۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. معلم کا طرز عمل بات کو سمجھانے اور ذہن نشین کرنے کا سب سے کارگر ذریعہ ہے۔ عمل کے ذریعے تعلیم بھی اس کی ایک مثال ہے۔
  2. وضو کے کچھ اعضا کو تین تین بار اور کچھ کو دو دو بار دھونا جائز ہے۔ اور ایک ایک بار دھونا واجب ہے۔
  3. اعضائے وضو کے درمیان اسی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے، جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
  4. چہرے کی حد سر کے بال اگنے کی عام جگہ سے داڑھی اور ٹھڈی کے نچلے حصے تک اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک ہے

تراجم کا مشاہدہ

59 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . . .