1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ:
«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ کسی کی چھپی ہوئی باتوں کو دیکھنے اور سننے کی کوشش مت کرو، کسی کی کمیوں کوتاہیوں کے پیچھے نہ پڑو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ نہ رکھو اور اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔"

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 6064

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کچھ ایسی چیزوں سے منع کر رہے ہیں، جو مسلمانوں کے آپسی انتشار اور دشمنی کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزیں یہ ہیں :
"الظن" : دل میں آنے والا ایسا برا خیال جس کی کوئی دلیل نہ ہو۔ آپ نے بتایا ہے کہ یہ سب سے بڑی جھوٹی باتوں میں سے ہے۔
"التَّحَسُّس" : آنکھ یا کان کے ذریعے لوگوں کی چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔
"التَّجَسُّس" : چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔ اس لفظ کا استعمال اکثر برائی کی ٹوہ میں پڑنے کے لثیے ہوتا ہے۔
"الحسد" : دوسروں کو نعمت ملے، اس بات کو ناپسند کرنا۔
"التدابر" : لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور کنی کاٹ کر نکل جائيں۔ نہ سلام کلام ہو اور نہ ایک دوسرے سے میل جول رکھیں۔
"التباغض" : ایک دوسرے کو ناپسند کرنا اور ایک دوسرے سے نفرت کرنا۔ مثلا دوسروں کو اذیت دینا، کسی کو دیکھ کر منہ بنانا اور اچھے سے نہ ملنا۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی جامع بات کہی، جس سے مسلمانوں کے آپسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ فرمایا : "اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔" دراصل اخوت ایک ایسا رابطہ ہے، جس سے لوگوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور پیار ومحبت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. کسی ایسے شخص کے بارے میں برا گمان رکھنا نقصان دہ نہیں ہے، جس کے اندر اس کے آثار دکھائی پڑتے ہوں۔ مؤمن کو اس بات سے خبردار رہنا چاہیے کہ برے اور گناہ گار لوگوں سے دھوکہ نہ کھائے۔
  2. یہاں مقصد اس برے گمان سے دور رکھنا ہے، جو دل میں بیٹھ جائے اور نکلنے کا نام نہ لے۔ جہاں تک ایسے برے گمان کی بات ہے، جو دل میں آئے اور ٹھہرے بغیر نکل جائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
  3. کسی کی برائی کی ٹوہ میں رہنا اور حسد وغیرہ یہ ساری چیزیں حرام ہیں، جو مسلم سماج کے افراد کے بیچ آپسی نفرت اور قطع تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
  4. اس بات کی وصیت کہ ایک مسلمان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرتے ہوئے اس کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس سے محبت رکھنی چاہیے۔

تراجم کا مشاہدہ

59 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
JA 日本語 اليابانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
BM Bambara البامبارية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية